سینیئرصحافی افتخار احمد کا کہنا تھا کہ حکومت فیصلہ چینلج نہیں کرے گی کیونکہ تفصیلی فیصلہ نہیں آیا۔ حکومت کی توجہ کام سے زیادہ اپوزیشن پر ہے۔
سینیئر تجزیہ کار ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ مولانا اور وزیراعظم کا موقف سخت ہوگیا ہے جس کے بعد اس بات کا امکان کم ہے کہ اب دونوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں۔
وزیراعظم کی جانب سے وزراء کی سرزنش سے متعلق سوال کے جواب میں عامر ضیاء نے کہا کہ وزراء اور نظام نظم و ضبط کے تحت ہی چلتا ہے۔ جس کے جو تحفظات ہوں وہ پارٹی نے اندر اٹھا سکتا ہے۔
افتخار احمد نے کہا کہ ورثاء کی معافی کو کبھی عدالتوں نے تسلیم کیا تو کبھی نہیں کیا۔ اس کیس سے متعلق بیانات خوف کی فضاء میں لیے گئے اس لیے ٹرائل شفاف نہیں ہوا۔
عامر ضیاء نے کہا کہ لچک آنا خوش آئند ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن کے رویے میں تضاد بھی موجود ہے۔ حکومت کی کوشش کی ہے کہ مارچ سے پہلے سیاسی ماحول میں کشیدگی کم کرے۔
سینیئر تجزیہ کار غلام مصطفی نے کہا کہ چیئرمین نیب کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے امتیازی سلوک کا تاثر ابھرے کیونکہ اس حوالے سے کئی بار تحفظات کا اظہار ہوچکا ہے۔
عامر ضیاء نے کہا کہ جھوٹی گواہی سے متعلق سزا موجود ہے لیکن اس حوالے سے چیف جسٹس کے خدشات درست ہیں کہ گواہی سے مجرم کا بچ جانا اور کسی بے گناہ کو سزا ہونا افسوسناک ہے۔
تجزیہ کار ضیغم خان نے کہا کہ گرے لسٹ سے ہمیں معاشی طور پر بہت نقصان ہورہا ہے، اس کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں ہم پر لگی ہیں، یہ ہماری وہ کمزوری ہے جس سے دنیا بار بار فائدہ اٹھاتی ہے۔
.عامر ضیاء نے کہا کہ اداروں کو ختم کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ان کا علاج ہونا چاہیے۔ شکایات پر اتنی سختی بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔