لاہور: حلقہ این اے 124 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ یہ حلقہ 30 سال سے پاکستان مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے، یہاں کوئی اور جماعت نہیں جیت سکتی۔
’ندیم ملک لائیو‘ کے میزبان ندیم ملک سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مری میں بھی محبت ملی تھی یہاں بھی مل رہی ہے، یہ حلقہ واضح اکثریت سے جیتیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بدترین انتخاب 2002 میں ہوا تھا لیکن 2018 کا الیکشن اس سے بھی بدتر تھا۔ الیکشن کمیشن کو اس کا جواب دینا چاہیے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج 25 جولائی کو آنے والے فیصلے کے اثرات نظر آ رہے ہیں اور منتخب حکومت کا رویہ سب کے سامنے ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ حکومت معیشت کو قابو نہیں کرسکتی کیونکہ ان کے پاس کوئی پالیسی نہیں۔
رہنما ن لیگ نے کہا کہ یہ ایک نالائق حکومت ہے جبکہ وزیراعظم کو کوئی سمجھ نہیں اور وزیر خزانہ نا اہل ہے۔ مستقبل میں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرخواجہ سعد رفیق کے حلقے پر دوبارہ گنتی کا عمل کیا جاتا تو وہاں ضمنی انتخاب کرانا پڑتا، عوام اس حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کی ساری امیدیں ہم سے ہی ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپوزیشن میں رہ کر تعمیری کام کریں۔
پروگرام میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے رہنما غلام محی الدین نے کہا کہ چاروں طرف اپنے ووٹرز ہی نظر آتے ہیں۔ ہم بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر عوام نے منتخب کیا تو اس حلقے کے عوام کو چھ ماہ میں صاف پانی مہیا کریں گے کیونکہ یہ اس علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ صاف پانی کے دو پلانٹ اپنے خرچے پر لگائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہار کا کوئی خوف نہیں، اگر جیت نہ بھی ملی پھر بھی حلقے کے لیے کام کروں گا۔
سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی رانا محمد اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ 16 تاریخ کو بجٹ پیش کیا جائے گا لیکن کیا یہ بجٹ پیش کرنے کے حالات ہیں؟
مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ان کی جماعت میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں بنا اور نہ بنے گا۔ شہباز شریف کی گرفتاری 25 جولائی کا تسلسل ہے۔ موجودہ تمام وزرا کے اثا ثے نکال کر دیکھ لیں سب سامنے آ جائے گا۔
پنجاب اسمبلی کے باہر موجود مسلم لیگ ن کے دیگر رہنما ؤں کا کہنا تھا کہ اس وقت عوام کے سامنے سب کچھ ہے، کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا، حکومت میں آنے سے قبل عوام کو بہت خواب دکھائے گئے تھے۔
