پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ جب آشیانہ کیس سے دھند ہٹے گی تو پتہ چلے گا کہ زمین کسی کو ٹرانسفر نہیں ہوئی۔ شہباز شریف بھی بے قصور ثابت ہوں گے۔
پروگرام ’بڑی بات‘ میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب کو استعمال کیا گیا۔ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ ضمنی انتخابات سے قبل شہباز شریف کی گرفتاری سیاسی انتقام ہے کیونکہ جب ایک شخص رضاکارانہ طور پر پیش ہو رہا ہے تو پھر اس کی گرفتاری سمجھ سے باہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ 14 تاریخ کے بعد کیا جاتا تو الگ بات تھی لیکن اچانک گرفتارکرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب اس وقت مسلم لیگ ن سے انتقام کا ادارہ بن چکا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت کمزور ہو رہی ہے جبکہ ن لیگ کی حکومت نے عوام اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ قانون کی عملداری نظر آئے۔ اگر قانون کی بالادستی ہوگی تو ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے عدالتوں میں پیش ہوکر ثابت کیا کہ پاکستان کے قانون کا احترام کرتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری کا وقت درست نہیں اور نیب کا فیصلہ بھی سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ن لیگ کے ساتھ احتجاج میں تو نہیں جائیں گے لیکن ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آخر لیڈر آف اپوزیشن کو کیوں گرفتار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کی تحقیقات ہونی چاہیئے لیکن طریقہ کار درست ہونا چاہیے۔ کل پی ٹی آئی کی گردن بھی نیب کی زد میں آسکتی ہے۔
پروگرام میں شریک سینیئر تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے پاکستان تحریک انصاف کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آنے والوں دنوں میں اپوزیشن متحد ہو سکتی ہے کیونکہ احتساب کے عمل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جو افسوسناک بات ہے۔
ہم نیوز انویسٹی گیشن سیل کے انچارج مجاہد حسین نے بتایا کہ صاف پانی منصوبے میں حمزہ شہباز نے 62 میٹنگز کیں لیکن طویل عرصے بعد پانی کا ایک قطرہ بھی صاف نہیں ہوا۔ اس کیس میں بہت سارے کردار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی کی تحقیقات میں تو بہت کچھ نظر آ رہا ہے لیکن مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
پروگرام میں موجود مہمان ذوالفقاراحمد بھٹہ نے کہا کہ صاف پانی کیس میں نیب آزاد ہے اور مکمل طور پر اس کیس کو خود دیکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ گواہ اپنے بیان سے منحرف ہو جاتے ہیں لیکن اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔
