عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں مضبوط ڈالر اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد کمی کے بعد 4,718.98 ڈالر فی اونس تک آ گئی، جو ایک ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب ہے، جبکہ جون ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز میں ایک فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور قیمت 4,742 ڈالر تک گر گئی۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں پر دباؤ کی بڑی وجہ ڈالر کی مضبوطی ہے، جس میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔
امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی تیاریوں نے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جس سے مہنگائی میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کمزور پڑ گئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکا۔اسرائیل اور ایران جنگ کے بعد سے اب تک سونے کی قیمتوں میں 11 فیصد سے زائد کمی آ چکی ہے، جو سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا اور ڈالر مزید مضبوط ہوا تو سونے پر دباؤ جاری رہ سکتا ہے، تاہم غیر یقینی صورتحال کے باعث طویل مدت میں سونا دوبارہ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
