امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ جبکہ ڈالر مضبوط اور اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار ہو گئیں۔
پیر کے روز برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 7.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 102 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ ایشیائی اور یورپی اسٹاک مارکیٹس میں تقریباً ایک فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
سرمایہ کاروں میں بے چینی اس وقت بڑھی جب امریکا نے ایران کی شپنگ پر دباؤ بڑھانے کے لیے ممکنہ ناکہ بندی کا عندیہ دیا، جس سے مشرق وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ایک نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف مزید عسکری کارروائیاں شروع کیں تو توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جس کے عالمی معیشت پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔
امریکی صدر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ تیل اور پیٹرول کی قیمتیں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات تک بلند رہ سکتی ہیں، جو اس بحران کے سیاسی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
ادھر عالمی کرنسی مارکیٹ میں یورو کی قدر میں کمی جبکہ آسٹریلوی ڈالر سمیت دیگر کرنسیاں بھی دباؤ میں رہیں۔ جاپان کے 10 سالہ بانڈز کی شرح سود 29 سال کی بلند ترین سطح 2.49 فیصد تک پہنچ گئی، جو سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث مرکزی بینکوں جیسے European Central Bank اور Bank of England شرح سود میں اضافے پر غور کر سکتے ہیں، حالانکہ اس سے قبل شرح سود میں کمی یا استحکام کی توقع کی جا رہی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر رہی تو عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی اور قیمتوں میں استحکام آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
