ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور مینجمنٹ قائم کرے گا، امریکیوں پر اعتماد نہیں کرسکتے۔
روسی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکیوں کومعاہدے کی ہم سے زیادہ ضرورت ہے،امریکا ہماری شرائط نہیں مانتا تو ہم اپنے راستے پر چلیں گے۔
امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کا بہترین سفارتی کردار
آبنائے ہرمز سے گزرنے والا ہر جہاز ایران کو ٹول دے گا،ہماری سفارتی پالیسی ایران اور اس کے قومی مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے،آبنائے ہرمز کا کنٹرول ہمارے ہاتھ میں ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران کیخلاف بڑے منصوبے پر غور شروع کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک مضمون شیئر کر دیا جس میں ایران کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی پر غور کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایرانی کرنسی کی قیمت میں بڑا اضافہ، خریداروں کو ماہرین کی وارننگ
مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران نے امریکا کی پیش کردہ حتمی شرائط قبول نہ کیں تو واشنگٹن ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔
