عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد کیے گئے اربوں ڈالرز کے ایرانی اثاثے بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
تہران اس اقدام کو امریکہ کی جانب سے “نیک نیتی کا امتحان” اور ایک پائیدار امن معاہدے کے لیے واشنگٹن کی سنجیدگی کی علامت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ان اثاثوں کی بحالی محض ایک مالیاتی فیصلہ نہیں ہے بلکہ اسے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے سے براہِ راست منسلک کیا گیا ہے۔
تاہم رائٹرز نے بعد میں رپورٹ کیا کہ ایک وائٹ ہاؤس آفیشل نے ایران کے اثاثے بحال کرنے کے فیصلے کی تردید کر دی ہے۔
