ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تاریخی امن مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
اس اہم سفارتی مشن میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل سکیورٹی کونسل، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل ہیں۔
Arrival of the US Delegation for Islamabad Talks pic.twitter.com/Hai19EZm4I
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 11, 2026
وفاقی دارالحکومت آمد پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔
اسحاق ڈار نے خطے اور عالمی امن کے لیے امریکی عزم کی تعریف کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع کی گئی ایران کے خلاف جنگ میں دو ہفتوں کے لیے وقفہ جاری ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد خطے میں کشیدگی میں وقتی کمی آئی ہے، جبکہ اس تنازع نے مشرق وسطیٰ سمیت عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا تھا۔
اسلام آباد روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ تعمیری گفتگو کے خواہاں ہیں،صدر ٹرمپ نے مذاکرات کی واضح ہدایات دی ہیں۔یقین ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت ہوں گے ،امید کرتے ہیں مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔
دوسری جانب ایرانی وفد مذاکرات کے لیے پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ وفد میں شامل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ خیر سگالی کے طور پر مذاکرات کیلئے اسلام آباد آئے ہیں لیکن امریکا پر اعتماد نہیں۔
Arrival of the delegation of the Islamic Republic of Iran for Islamabad Talks pic.twitter.com/aJYU9cx5t2
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 10, 2026
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ امریکا حقیقی معاہدہ پیش کرے اور ایران کے حقوق تسلیم کرے تو ایران معاہدے کے لیے تیار ہے۔
