جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے 26.2 کھرب وون (تقریباً 17.7 ارب ڈالر) کا اضافی حکومتی بجٹ منظور کرلیا ہے، جس کا مقصد ایران جنگ کے باعث ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرزکے مطابق حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنے کیلئے اس پیکج کو فوری طورپرنافذ کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحت کم آمدنی والے طبقات کو خصوصی مالی امداد دی جائے گی، جس میں آمدنی کے لحاظ سے نچلے 70 فیصد افراد یعنی تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ شہری شامل ہوں گے۔
اسرائیل کا غزہ جنگ بندی مرکز سے اسپین کو نکالنے کا اعلان
حکومت کی جانب سے ان افراد کو نقد رقم فراہم کی جائے گی تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
اس ریلیف پیکج میں صدر لی کا کنزیومر واؤچر پروگرام بھی شامل ہے، جس کے تحت مستحق افراد کو فی کس 100,000 وون سے لے کر 600,000 وون (400 ڈالر سے زائد) تک ادائیگیاں کی جائیں گی۔
مزید برآں، ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں اور گزشتہ ماہ متعارف کرائی گئی قیمتوں کو تقریباً چھ ماہ تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اسی باعث عالمی تیل قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔
