ایران بحران کے باعث دبئی نے غیر ملکی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں پر پروازوں کو محدود کرتے ہوئے 31 مئی تک روزانہ صرف ایک پرواز کی اجازت دے دی ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی ایئرلائنز کو بڑے مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
بھارتی ایئرلائنز کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دبئی حکام سے ان پابندیوں کے خاتمے کے لیے بات کرے، بصورت دیگر دبئی کی ایئرلائنز کے خلاف جوابی اقدامات پر غور کیا جائے۔ تنظیم میں IndiGo، Air India اور SpiceJet شامل ہیں۔
دوسری جانب بھارتی ایئرلائنز پہلے ہی بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث طویل روٹس اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
دبئی ایئرپورٹس کے مطابق گرمیوں کے شیڈول (20 اپریل تا 31 مئی) کے دوران دبئی انٹرنیشل ایئرپورٹ اور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہر غیر ملکی ایئرلائن کو روزانہ ایک ہی ریٹرن فلائٹ کی اجازت ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گنجائش بڑھنے پر مزید سلاٹس دیے جا سکتے ہیں۔
انڈین ایئرلائنز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ پابندیاں دبئی کی مقامی ایئرلائنز جیسے Emirates اور flydubai پر لاگو نہیں ہو رہیں، جس سے مقابلے کی فضا غیر مساوی ہو گئی ہے اور بھارتی ایئرلائنز کو “بھاری مالی نقصان” ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گزرنے والے مسافروں میں بھارتی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ، تقریباً 1 کروڑ 19 لاکھ رہی۔
اپریل اور مئی کے شیڈول کے مطابق Air India اور اس کی ذیلی ایئرلائن ایئر انڈیا ایکسپریس نے 750 سے زائد پروازیں شیڈول کی تھیں، جبکہ IndiGo کی 481 پروازیں متوقع تھیں۔
تاہم نئی پابندیوں کے تحت ہر غیر ملکی ایئرلائن کو ماہانہ صرف 30 یا 31 پروازوں تک محدود ہونا پڑے گا، جبکہ امارات اور فلائی دبئی بدستور سینکڑوں پروازیں چلا رہی ہیں۔
IndiGo نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور نئی پابندیوں کے باعث اس کے آپریشنز شدید متاثر ہوئے ہیں اور اس کی پروازوں کی گنجائش اور طیاروں کا استعمال کم ہو کر رہ گیا ہے۔
دوسری بڑی ایئرلائنز جیسے Lufthansa، Singapore Airlines اور British Airways نے بھی کم پروازوں کے باعث دبئی کے لیے اپنی سروسز 31 مئی تک معطل کر دی ہیں، اور اس کے بجائے ایشیا اور یورپ کے درمیان براہ راست پروازوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
