ایران کی مسلح افواج نے جنگ بندی کے باوجود ہائی الرٹ رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں پر کسی قسم کا اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ فوج مکمل تیاری کی حالت میں رہے گی اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران کو “دشمن پر بالکل بھی اعتماد نہیں”، اور امریکی قیادت، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ، ماضی میں ناقابلِ اعتماد ثابت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری انگلیاں ٹرگر پر ہیں اور ہم قیادت کے احکامات کے منتظر ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے اور ماضی کے مذاکرات کے تجربات نے ایران کے اس مؤقف کو مضبوط کیا ہے کہ مخالفین پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا، تاہم حالیہ عسکری پیش رفت بعض پہلوؤں پر نظرثانی کا سبب بن سکتی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے اپنے مخالفین کے زیر استعمال جدید لڑاکا طیاروں کے ہر ماڈل میں سے کم از کم ایک کو مار گرایا ہے، جسے انہوں نے امریکا کی علاقائی اور عالمی حیثیت کو کمزور کرنے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا کہ اسرائیل “جنگ بندی کا مطلب نہیں سمجھتا” اور مزید حملوں کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔
لبنانی حکام کے مطابق بدھ کے روز ہونے والے حملوں میں بیروت، جنوبی لبنان اور وادی بقاع کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔
