وفاقی حکومت نے وزیراعظم فیول پیکج 2026 کے تحت ایندھن پر سبسڈی کی مد میں پہلی قسط کے طور پر 1.2 ارب روپے کی رقم ڈیجیٹل طریقے سے 32 ہزار سے زائد مستحقین میں تقسیم کر دی ہے۔
اس اسکیم سے بسوں، ٹرکوں، طویل فاصلے کی گاڑیوں اور ڈیلیوری وینز کے آپریٹرز مستفید ہو رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ادائیگیاں ایزی پیسہ کے ذریعے کی گئیں، جس سے مالی معاونت کی ترسیل کو تیز، محفوظ اور شفاف بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹرک آپریٹرز کو ادائیگی کے لیے یہ پہلا ڈیجیٹل والیٹ پلیٹ فارم ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں ٹینکرز، بسوں اور موٹر سائیکل سواروں کو بھی اس سہولت میں شامل کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنا ہے، جبکہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رقم براہ راست مستحقین تک فوری پہنچ رہی ہے اور روایتی نقد ادائیگی کے نظام پر انحصار کم ہو رہا ہے۔
ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو افسر جہانزیب نے کہا کہ حکومت کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بروقت مالی ریلیف کی فراہمی اعزاز کی بات ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں پاکستان کے جدید مالیاتی نظام کا اہم ستون ہیں، جو شفافیت، کارکردگی اور مالی شمولیت کو فروغ دیتی ہیں۔
ایزی پیسہ کے مطابق اس کے 5 کروڑ 90 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ صارفین اور ملک بھر میں پھیلے ایجنٹ نیٹ ورک کے باعث بڑے پیمانے پر حکومت سے شہریوں کو ادائیگیوں کا نظام مؤثر طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔
