جے یو آئی نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے مؤخر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ اقدام ایران اورامریکہ کے درمیان جاری امن مذاکرات کے پیش نظرکیا گیا، وزیراعظم شہبازشریف کا پیغام لے کر حکومتی وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچا، جس میں وزیرداخلہ محسن نقوی، رانا ثنا اللہ اورطارق فضل چوہدری شامل تھے۔
حکومت نے جے یو آئی سے درخواست کی کہ وہ موجودہ سیاسی اور بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر مظاہرے مؤخر کرے۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومتی وفد سے ملاقات میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوامی بے چینی سے آگاہ کیا اور فوری کمی کا مطالبہ کیا۔
قیام امن کیلئے ہم سب سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں،وزیراعظم
حکومتی وفد نے یقین دہانی کرائی کہ چند روز میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی۔ مشاورت کے بعد مولانا فضل الرحمان نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
جے یو آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 12 اپریل کو مردان میں جلسہ عام کرے گی، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور احتجاجی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم ملک میں سیاسی تناؤ کم کرنے اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کی کوشش ہے۔ اسلام آباد میں کل سے ایران، امریکہ سمیت مختلف ممالک کے وفود کی آمد متوقع ہے، جس کے پیش نظر یہ فیصلہ وقت کی اہم ضرورت تھا۔
