امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کے معاہدے کو امریکا کی مکمل فتح قرار دیے جانے کے بعد اب متحدہ عرب امارات نے بھی اس تنازع میں اپنی ‘فتح’ کا دعویٰ کیا ہے۔
یو اے ای کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امارات اس جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے، حالانکہ ان کا ملک ہمیشہ سے اس تنازع سے بچنے کا خواہشمند رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے بیان میں انور قرقاش نے لکھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایک ایسی جنگ میں فتح حاصل کی ہے جس سے بچنے کی ہم نے پوری دیانتداری سے کوشش کی تھی۔
انتصرت الإمارات في حربٍ سعينا بصدق لتجنّبها، وانتصرنا بدفاعٍ وطني ملحمي، صان السيادة والكرامة وحمى المنجزات في وجه عدوان غاشم. ونتجه اليوم لإدارة مشهدٍ إقليمي معقّد برصيدٍ أكبر، ومعرفةٍ أدق، وقدرةٍ أرسخ على التأثير وصياغة المستقبل.
قوتنا وصلابتنا وثباتنا عزّزت نموذج الإمارات…
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) April 8, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ایک عظیم قومی دفاع کے ذریعے ہم نے اپنی خودمختاری اور وقار کا تحفظ کیا اور جارحیت کے مقابلے میں اپنی کامیابیوں کو بچایا۔
صدارتی مشیر کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے امارات کو خطے کے پیچیدہ منظرنامے کو بہتر طور پر سمجھنے اور مستقبل کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی زیادہ صلاحیت دی ہے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات کی قوت، لچک اور ثابت قدمی نے ملک کے ترقیاتی ماڈل کو مزید تقویت بخشی ہے اور اب امارات مستقبل کی تشکیل کے لیے پہلے سے زیادہ ٹھوس صلاحیت رکھتا ہے۔
