دنیا نے ایران امریکا جنگ بندی معاہدے پر خیرمقدم کیا ہے اور پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔
روس، یورپی یونین، سعودی عرب، جرمنی، ملائیشیا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اسے امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے اور پاکستان کی امن کی کوششوں کو سراہا ہے۔
روس کے ڈپٹی چیئرمین سیکیورٹی کونسل نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ یہ معاہدہ دانشمندی کی جیت ہے۔ سابق اطالوی وزیراعظم پاؤلوجی نتیلونی نے پاکستان کو اس پیش رفت پر نوبل انعام کا مستحق قرار دیا۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں استحکام کے لیے مثبت قدم قرار دیا، جبکہ یورپی یونین نے کہا کہ یہ معاہدہ نہایت اہم ہے اور تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ پاکستان اس معاہدے میں کردار ادا کرنے پر قابلِ تحسین ہے اور جرمنی امریکا و دیگر شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے، انہوں نے آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی یقینی بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ان کا ملک قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے غزہ میں جنگ کے خاتمے اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم کی دعوت، امریکا اور ایران کے 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ممالک کی کوششوں کو سراہا، تاہم انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے ابھی مزید کام باقی ہے۔
اسی طرح آسٹریلیا کے وزیراعظم نے بھی مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
