مشرق وسطیٰ میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی کوششوں سے سیزفائر معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل و گیس کی ترسیل بحال ہونے کی امید نے سرمایہ کاروں کو ریلیف دیا۔
عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 15 فیصد کمی کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ برینٹ کروڈ بھی 13 فیصد کم ہو کر تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
دوسری جانب اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی، جہاں امریکی S&P 500 فیوچرز میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی مارکیٹس میں 5 فیصد تک چھلانگ لگائی گئی۔ ایشیا میں جاپان کا نکئی انڈیکس تقریباً 5 فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی 6 فیصد تک بڑھ گیا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف عارضی ریلیف ہو سکتا ہے، اور سرمایہ کار اب بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا یہ جنگ بندی مستقل امن کی شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں۔
