اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں میں دو ہفتے کے وقفے کے فیصلے کی حمایت کر دی ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوگی۔
امریکا کی جانب سے جنگ بندی پر اتفاق پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نیتجے میں ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر بمباری اور حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر رضامند ہوں، بمباری اورحملے معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مطابق اسرائیل جنگ بندی اقدام کی حمایت اس شرط پر کرتا ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولے اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے بند کرے۔
اسرائیل نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکا کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران مستقبل میں جوہری، میزائل یا سیکیورٹی خطرہ نہ بنے۔
دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔
