حکومت نے کرپشن کے خاتمے اور گورننس میں بہتری کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے دسمبر 2026ء تک سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس سلسلے میں اعلیٰ افسران کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرنے کیلئے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا جبکہ بینکوں کو بھی ان معلومات تک رسائی دی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
دستاویزات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) اور ایف آئی اے سمیت دیگرمتعلقہ اداروں پرمشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جو بدعنوانی کے کیسز، اثاثہ جات کی ریکوری اور مینجمنٹ کے عمل کو مؤثر بنائے گی۔
اسلام آباد میں موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ایک ماہ کیلئے ختم کرنے کا اعلان
اس کے ساتھ ساتھ ایسیٹ ریکوری اور مینجمنٹ یونٹس کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ بیرون ملک منتقل کی گئی دولت کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اینٹی کرپشن اصلاحات کو تیز کیا جائے گا اور ادارہ جاتی شفافیت میں اضافہ کیا جائے گا۔
نیب کے چیئرمین کی تقرری کے طریقہ کار کو بھی بہتر بنانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ ادارے کو مزید خودمختاری دینے اور اس کی کارکردگی رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے نیب کے چیئرمین کی تقرری میں اپوزیشن کی مؤثر نمائندگی اور ایک آزاد کمیشن کے قیام پر زور دیا ہے تاکہ احتساب کا عمل غیر جانبدار اور شفاف بنایا جا سکے۔
