آل پاکستان انجمن تاجران نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں رات دس بجے سے پہلے دکانیں بند نہیں کریں گے۔
صدر اجمل بلوچ کا بیان میں کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔سندھ اور خیبر پختون خواہ حکومت تاجروں کی بات ماننے کے لئے تیار ہے۔وفاق ، پنجاب اور بلوچستان حکومتوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں۔
پنجاب، خیبرپختونخوا،بلوچستان، اسلام آباد،جی بی اورآزادکشمیرمیں مارکیٹیں رات 8بجےبندکرنے کا فیصلہ
رات آٹھ بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ کسی صورت درست نہیں،تاجر برادری شام 6 سے رات 10 بجے تک سب سے مہنگی بجلی خرید رہی ہے،تاجر برادری ملکی توانائی پوری کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
رات آٹھ بجے دکانیں بند کرنے سے رش کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا،پیک آورز میں زبردستی کاروبار بند کرانا عقلمندی نہیں،کاروباری پہیہ چلا کر ہی ملکی پہیہ رواں رکھا جا سکتا ہے۔
سٹیل مل بند ، پی آئی اے فروخت ریلوے سمیت کئی ادارے اربوں روپے کے خسارے میں ہیں،تاجر برادری کے ساتھ سختی کے بجائے ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کی جائے۔
کفایت شعاری اقدامات سے 129 ارب روپے کا ریلیف، وزیراعظم کا کم آمدنی والے طبقے پر فوکس
کفایت شعاری کاروبار بند کرنے سے نہیں مفت میں چلنے والے پہیے کو روکنے سے ہوگی،کفایت شعاری بڑی بڑی گاڑیوں سے اتر کر اور پیوند لگے کپڑے پہننے سے ہوگی ۔
وفاقی وزیر تجارت اور وزیر توانائی تاجروں سے مذاکرات کریں،امریکہ اور ایران کی ثالثی ہو رہی ہے تو تاجروں کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں،اگر تاجروں کے سختی کی گئی تو احتجاج کا اعلان کر دیں گے۔
