ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اگرچہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاہم امریکا اب بھی اپنے مؤقف میں سختی برقرار رکھے ہوئے ہے اور براہ راست کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران دباؤ میں آکر ہتھیار ڈال دے، جسے تہران کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرامریکا لچک دکھائے تو ایران بھی مثبت رویہ اختیارکرسکتا ہے لیکن یکطرفہ دباؤ قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمزکودوبارہ کھلوانا چاہتا ہے تاہم ایران اسے محض کھوکھلے وعدوں کے بدلے کھولنے کے لیے تیار نہیں۔
ڈیڈلائن ختم ہونے سے پہلے ایران سےمثبت جواب ملنےکی توقع ہے، جےڈی وینس
عہدیدارنے خبردارکیا کہ اگرامریکا نے ایران کے پاورپلانٹس کو نشانہ بنایا تواس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں اوربڑے پیمانے پر بجلی کا بحران جنم لے سکتا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ قطرنے پیر کے روز ایران کا اہم پیغام امریکا تک پہنچایا ہے، جس میں پاور پلانٹس پرممکنہ حملوں کے نتائج سے آگاہ کیا گیا۔
ایرانی عہدیدار نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگرصورتحال مزید بگڑتی ہے توایران کے اتحادی آبنائے باب المندب کو بند کرنے جیسے اقدامات بھی کرسکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت اورتوانائی کی ترسیل شدید متاثرہو سکتی ہے۔
