یورپی یونین کے کلاؤڈ انفرااسٹرکچر پر ایک بڑے پیمانے کے سائبر حملے کے نتیجے میں 29 اداروں کا تقریباً 92 جی بی حساس ڈیٹا ہیکرز نے چوری کر لیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے یورپی کمیشن کے اہم سرکاری ریکارڈز اور صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کی۔ اس ڈیٹا میں اعلیٰ حکام کے نام، سرکاری ای میل ایڈریسز اور خفیہ نوعیت کی دستاویزات شامل ہیں۔
فیس بک سے پیسے کمانے کے طریقے کیا ہیں؟ مکمل رہنمائی
یورپی یونین کی سائبر سیکیورٹی ٹیم نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہیکرز نے ایمازون ویب سروسز کے ایک کمزور اکاؤنٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ اکاؤنٹ یورپی کمیشن کے مرکزی پلیٹ فارم “Europa.eu” سے منسلک تھا، جو متعدد سرکاری ویب سائٹس کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
حکام کے مطابق اس سائبر حملے سے کم از کم 29 یورپی ادارے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ڈیٹا لیک یورپی یونین کے اندرونی مواصلاتی نظام اور ڈیجیٹل سیکیورٹی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حملہ آوروں نے سپلائی چین اٹیک کی جدید تکنیک استعمال کی۔ ہیکرز نے پہلے ایک اوپن سورس سیکیورٹی ٹول میں نقب لگائی، وہاں سے خفیہ اے پی آئی کیز حاصل کیں اور پھر ان کے ذریعے محفوظ کلاؤڈ سسٹم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
دوسری جانب معروف ہیکنگ گروپ “ShinyHunters” نے مبینہ طور پر اس ڈیٹا کو آن لائن لیک کر کے کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ گروپ اس سے قبل بھی عالمی سطح پر متعدد کمپنیوں اور اداروں کے ڈیٹا لیک میں ملوث رہ چکا ہے۔
سام سنگ نے نئے گلیکسی فائیو جی اسمارٹ فونز متعارف کرا دیے
واقعے کے بعد یورپی یونین نے فوری طور پر متاثرہ سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کے نیٹ ورکس کو کڑی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آئندہ ایسے سائبر حملوں سے بچاؤ کے لیے سیکیورٹی نظام کو مزید کیسے مضبوط بنایا جائے۔
