بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور کے علاقے بڈھانو میں سنکی باپ نے اپنی 8 سالہ بیٹی کو قربان کرنے کی کوشش کی، تاہم مقامی افراد کی بروقت مداخلت کے باعث بچی کی جان بچا لی گئی۔
پولیس کے مطابق ملزم ہفتے کے روز اپنی بیٹی کو ساڑھی پہنا کر نہر کے کنارے لے گیا، جہاں اس نے مبینہ طور پر رسومات ادا کرنا شروع کیں۔ اس دوران بچی کی چیخ و پکار سن کر قریبی گاؤں کے لوگ موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور پر اسے باپ کے قبضے سے آزاد کرایا، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔
سینکڑوں ڈائناسور کے انڈے محفوظ حالت میں دریافت، ماہرین حیران

بڈھانو تھانے کے انچارج تیج بہادر سنگھ کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ملزم نے جائے وقوع پر مختلف رسومات انجام دیں اور اسی دوران بچی خوفزدہ ہو کر زور زور سے رونے لگی، جس پر راہگیروں نے مداخلت کرتے ہوئے اسے بچا لیا۔
ملزم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس کی ذہنی حالت گزشتہ کئی ماہ سے خراب تھی۔ اس کے بھائی کے مطابق گھر سے تقریباً 75 ہزار روپے بھی برآمد ہوئے، جن سے اس نے اپنے اور بیٹی کے لیے کپڑے اور دیگر اشیاء خریدی تھیں۔
اہل خانہ نے مزید بتایا کہ ملزم اکثر خواتین جیسے لباس پہنتا تھا اور مبینہ طور پر توہمات اور رسومات میں دلچسپی رکھتا تھا، جس کے باعث اس کی ازدواجی زندگی بھی متاثر ہوئی اور تقریباً 7 سال قبل اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی گئی۔
بریانی کھائیں وہ بھی مفت؛ ریسٹورنٹ کی انوکھی پیشکش
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش ملزم نے اپنی بیٹی کو نقصان پہنچانے کے الزام کی تردید کی اور مختلف دعوے کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچی کو محفوظ طور پر اس کی خالہ کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ خاندان کو ملزم کے مناسب علاج کے لیے ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
