ایران نے جنگ بندی تجاویز سے متعلق اپنا سفارتی جواب تیار کر لیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس سفارتی جواب کا باضابطہ اعلان مقررہ وقت پر کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایران صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور مناسب وقت پر اپنا مؤقف سامنے لائے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم نے اپنے مفادات اور پوزیشن کی بنیاد پر اپنے مطالبات کا تعین کیا ہے، مذاکرات میں قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ہماری ریڈ لائنز با لکل واضح ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اپنے جائز مطالبات کو واضح طور پر بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا، ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے کے ممالک کی سلامتی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔
ایک عارضی جنگ بندی جنگ جاری رکھنے کی امریکی اسرائیلی خواہش کی نشاندہی کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ اور اس کے دوبارہ ہونے سے روکنا کسی بھی معاہدے کیلئے بنیادی شرط ہے،کسی دھمکی کے تحت براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق ایران اور امریکا کو جنگ بندی سے متعلق ایک مجوزہ منصوبہ گزشتہ رات ارسال کیا گیا ہے، جس میں اہم سفارتی اور سیکیورٹی نکات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے کے تحت ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، جس کے بدلے میں عالمی پابندیاں ختم کرنے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کی پیشکش شامل ہے۔
امریکا۔ایران جنگ بندی کی کوششوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اہم کردار سامنے آگیا
رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کو جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی جانب سے تجویز موصول ہوئی ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران کسی بھی ڈیڈ لائن کو قبول کرنے کے لیے دباؤ میں نہیں آئے گا اور تمام تجاویز کا فیصلہ اپنے قومی مفاد کے مطابق کیا جائے گا۔
