2026 کے اوائل کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر سب سے زیادہ سونے کے ذخائر رکھنے والا ملک امریکا ہے۔
امریکا کے پاس تقریباً 8,133 ٹن سونا محفوظ ہے۔ یہ ذخائر امریکی معیشت کی مضبوطی اور عالمی مالی استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسرے نمبر پر جرمنی ہے، جس کے پاس تقریباً 3,362 ٹن سونا موجود ہے۔ اس کے بعد اٹلی کے 2,451 ٹن اور فرانس کے 2,436 ٹن سونے کے ذخائر ہیں۔
روس کے پاس 2300 ٹن سے زائد ہیں، چین کے سرکاری ذخائر 2,264 ٹن ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے اصل ذخائر اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ چین اور روس ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے سونے میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔
بھارت کے پاس تقریباً 822 ٹن سونا موجود ہے جبکہ جاپان کے ذخائر 846 ٹن ہیں،پاکستان کے پاس تقریباً 64.76 ٹن سونا موجود ہے، جس کی مالیت 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ عالمی سطح پر 48 ویں نمبر پر ہے۔
سونے کے یہ ذخائر نہ صرف مالی تحفظ اور عالمی تجارت میں ملک کی طاقت ظاہر کرتے ہیں بلکہ اقتصادی بحران کے دوران ملکی کرنسی کو مستحکم رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
سونا ایک ٹھوس اور محفوظ اثاثہ ہے جو معاشی غیر یقینی صورتحال میں دنیا بھر کے ممالک کو مالی استحکام فراہم کرتا ہے، سونا کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے عالمی تجارتی نظام میں ملک کی ساکھ بڑھتی ہے۔
تیل کی قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، اوپیک پلس کا پیداوار کے کوٹے میں اضافے پر اتفاق
مرکزی بینک اپنے مالیاتی ریزروز میں سونے کو شامل رکھتے ہیں تاکہ ڈالر کی قدر میں کمی یا دیگر مالیاتی خطرات کے دوران اپنے ذخائر کی حفاظت کر سکیں۔سونا بین الاقوامی تجارت میں قرضوں کی ادائیگی یا تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ایک مستحکم ضمانت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
