ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ منصوبے پر غور جاری ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران کو امریکا کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدگی نظر نہیں آ رہی، اس لیے عارضی سیزفائر قابل قبول نہیں۔
عہدیدار نے تصدیق کی کہ پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہو چکی ہے، تاہم ایران اس پر محتاط انداز میں غور کر رہا ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا ڈیڈ لائن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی عسکری قیادت نے ایک نیا سفارتی منصوبہ پیش کر دیا ہے، جس کے تحت فوری جنگ بندی اور بعد ازاں جامع معاہدے کی تجویز دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس فریم ورک میں ابتدائی طور پر فوری سیزفائر کی تجویز شامل ہے، جس کے بعد 15 سے 20 دن کے اندر ایک مستقل معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
اس منصوبے کو عارضی طور پر “اسلام آباد معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
