وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں کسی صورت عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے نفاذ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوامی ریلیف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں اور وہ قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں، جبکہ سبسڈی کی فراہمی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر پیر سے شروع ہونے والی سبسڈی کا عملی آغاز ہفتے سے کر دیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ، منی بسوں کو 40 ہزار روپے جبکہ ٹرکوں کو 70 ہزار، مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار اور وینوں کو 35 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ رقوم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہیں اور فوری ادائیگی کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
اجلاس میں انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے حکومتی کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا عوامی ریلیف پیکج دیا جا چکا ہے اور مشکل وقت میں عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول لیوی میں فوری طور پر 80 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جبکہ پاکستان ریلوے بھی 6 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے اور مسافر و مال گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ اس کے علاوہ ٹول ٹیکس میں سہ ماہی 25 فیصد اضافہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔
پیٹرول مہنگا مگر کرایے نہیں بڑھیں گے، حکومت سندھ نے عوام کو بڑا ریلیف دے دیا
وزیراعظم نے سرفراز بگٹی کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ بلوچستان حکومت نے قومی پیکیج کے لیے اپنی مقررہ رقم جمع کرا دی ہے، اور امید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی جلد اس میں شامل ہوں گے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا عطا تارڑ، محمد اورنگزیب سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
