وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ شروع ہونے سے پہلے والے کرایے نافذ العمل ہوں گے۔
مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جس کے تحت 28 فروری کے کرایے ہی برقرار رکھے جائیں گے اور خطے میں کشیدہ صورتحال سے قبل کے کرایے نافذ العمل رہیں گے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق مسافر بس، منی بس، کوسٹر اور سوزوکی سمیت تمام پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے نہیں بڑھیں گے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ عوام پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فی مسافر بس ایک لاکھ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ سندھ حکومت بھی اس مد میں 14 ارب روپے فراہم کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ٹرانسپورٹرز کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں تقریباً 11 ہزار بسیں چل رہی ہیں جبکہ 470 سرکاری بسیں بھی سروس فراہم کر رہی ہیں۔ غیر رجسٹرڈ ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کرائیں، بصورت دیگر کرایے بڑھانے کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے عوام پر زور دیا کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سادگی اپنائیں اور بجلی، گیس اور پیٹرول کی بچت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام طبقات کا تعاون ہی اس مشکل وقت میں استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بارشوں سے تباہی، 57 افراد جاں بحق، سینکڑوں زخمی
دوسری جانب کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر نے سندھ حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ٹرانسپورٹرز کرایوں میں اضافہ نہیں کریں گے۔ انٹر سٹی ٹرانسپورٹر ملک شبر نے بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا ہے اور سبسڈی ملنے پر پرانے کرایے ہی برقرار رکھے جائیں گے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں خالی گاڑیاں چلانے سے نقصان اٹھانا پڑا اور عوام میں اضافی کرایہ ادا کرنے کی سکت نہیں، ایسے میں حکومتی سبسڈی اہم سہارا ثابت ہوگی۔
