خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق دونوں صوبوں میں مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 57 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا میں 25 مارچ سے اب تک بارشوں کے باعث 45 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 23 بچے، 17 مرد اور 5 خواتین شامل ہیں۔ پشاور میں جاری اعداد و شمار کے مطابق مختلف حادثات، خصوصاً چھتیں اور دیواریں گرنے سے 105 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں 45 مرد، 16 خواتین اور 44 بچے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر 442 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں 382 جزوی جبکہ 60 مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ بنوں، ایبٹ آباد، مردان، باجوڑ اور پشاور سمیت مختلف اضلاع میں یہ حادثات پیش آئے۔ متاثرہ علاقوں کو امدادی سامان کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے جبکہ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرین تک فوری مدد پہنچائی جائے۔ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ صوبے میں بارشوں کا نیا سلسلہ 6 سے 9 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 12 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں 4 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔ مزید 15 افراد زخمی ہوئے، جن میں 10 بچے، 4 خواتین اور ایک مرد شامل ہے۔
گرج چمک کے ساتھ بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی
رپورٹ کے مطابق کیچ، ہرنائی، کوہلو، لورالائی، جعفرآباد، موسیٰ خیل، دکی اور ژوب میں جانی نقصانات رپورٹ ہوئے، جبکہ نصیرآباد، چمن، حب، آواران، لسبیلہ، پشین اور قلعہ عبداللہ میں مالی نقصانات سامنے آئے۔ صوبے میں 160 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 33 مکمل تباہ جبکہ 127 کو جزوی نقصان ہوا۔
حکام کے مطابق متاثرہ اضلاع میں انتظامیہ، ایف سی اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تاکہ متاثرین کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
