ایرانی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت لازمی ہوگی۔
ایرانی پارلیمنٹ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں آئے گی اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں یہ ایران کے لیے ایک اہم اسٹریٹیجک اثاثہ بن چکی ہے۔
پارلیمنٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت لازمی ہوگی اور کوئی بھی ملک بغیر اجازت اس اہم بحری گزرگاہ سے نہیں گزر سکے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت فوجی کنٹرول میں ہے اور ایران اس اسٹریٹیجک مقام کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ نے اپنی مسلح افواج کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افواج کمزور نہیں ہوئیں بلکہ حالیہ جنگی تجربات سے مزید مضبوط اور مؤثر بنی ہیں۔
ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ اسرائیل نے کیا؟ پاسداران انقلاب
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے تک مزاحمت جاری رکھے گا، جبکہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
