وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت جلد مارکیٹیں بند کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک اہم اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات کے تحت مارکیٹوں کو معمول سے پہلے بند کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ تجویز منظور ہو گئی تو مارکیٹیں مقررہ وقت سے پہلے بند کر دی جائیں گی، جبکہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کو رات 10 بجے تک کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد انرجی مارکیٹ شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے جواباً آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا اور خلیجی خطے میں آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا، جس سے عالمی سپلائی متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات شروع کیے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ابتدا میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، بعد ازاں قیمتیں بڑھ کر 458 روپے سے تجاوز کر گئیں، تاہم حالیہ کمی کے بعد پیٹرول 378 روپے فی لیٹر کی سطح پر آ گیا ہے۔
علی پرویز ملک نے معاشی صورتحال کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بڑے مالی چیلنجز کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ آئندہ ہفتے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے اہم ملاقاتوں کے لیے بیرون ملک جائیں گے، جہاں پاکستان کو درپیش معاشی دباؤ اور پالیسی فریم ورک پر بات کی جائے گی۔
وزیر پیٹرولیم نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے مشکل وقت میں 3.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس برقرار رکھنے کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک نے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا تو پاکستان اس کے لیے تیار ہے۔
توانائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قطر سے گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد مقامی گیس فیلڈز نے 400 سے 500 ایم ایم سی ایف ڈی تک سپلائی دے کر نظام کو سہارا دیا۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر مملکت کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پر غور کیا گیا، تاہم صوبوں نے اس کی مخالفت کی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں سے 254 ارب روپے کے ریلیف پیکج میں حصہ ڈالنے کی بھی درخواست کی ہے تاکہ موجودہ چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
