گزشتہ رات آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک مکان منہدم ہو گیا، جس کے باعث ایک ہی خاندان کے کم از کم 8 افراد جاں بحق جبکہ ایک بچہ زخمی ہو گیا۔
اس کے علاوہ پشاورمیں راج کپور حویلی کی دیوار متاثر ہوئی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق بارشوں کے باعث حویلی کی دیواریں خستہ حال ہو چکی تھیں، اور دلیپ کمار اور راج کپور حویلی کی مرمت کیلئے بجٹ مختص ہو چکا ہے، اور جلد کام شروع کیا جائے گا۔
زلزلے کے شدید جھٹکے کابل، اسلام آباد اور نئ دہلی سمیت خطے کے مختلف شہروں میں محسوس کیے گئے۔
زلزلہ ہندوکش کے علاقے میں آیا، جس کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی۔ جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 177 کلومیٹر تھی، جبکہ پاکستان کے قومی زلزلہ پیما مرکز نے اس کی گہرائی 190 کلومیٹر بتائی ہے۔
پاکستان میں اسلام آباد، راولپنڈی، مری، پشاور، فیصل آباد اور ملتان سمیت متعدد علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے، تاہم کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کا پہاڑی جغرافیہ اسے قدرتی آفات، خصوصاً زلزلوں کے لیے حساس بناتا ہے، جہاں ہر سال اوسطاً سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی 5.8 شدت کا زلزلہ مشرقی افغانستان میں آیا تھا، جبکہ نومبر میں آنے والے 6.3 شدت کے زلزلے میں کم از کم 27 افراد جاں بحق اور سینکڑوں مکانات تباہ ہو گئے تھے۔
