صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہ ملنا تاریخی حقیقت ہے۔
آصف علی زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ملک بھر میں سابق وزیر اعظم کی برسی منائی جا رہی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی رائے کے مطابق بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا اور ان کے کیس میں قانونی تقاضے نظر انداز کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی مشاہدے کے مطابق بھٹو کیس میں اپیل کے حق کو بھی متاثر کیا گیا۔
آصف زرداری نے کہا کہ 1973 کا آئین بھٹو دور کی ایک بڑی کامیابی ہے جبکہ انصاف اور قانون کی بالادستی ہر معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد کیس کو دوبارہ کھولا گیا، جس کے اثرات عوام پر بھی مرتب ہوئے۔
صدر نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کی عدم فراہمی کے اثرات پوری قوم پر پڑتے ہیں اور اداروں کو قانون اور انصاف کی پاسداری یقینی بنانا ہوگی۔
موٹر سائیکل سواروں کیلئے پیٹرول پر رعایت حاصل کرنے کا طریقہ کار
انہوں نے بینظیر بھٹو کی جمہوری جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی انصاف سے مشروط ہے۔ صدر مملکت کے مطابق عالمی رہنماؤں نے بھی بھٹو ٹرائل پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
