اسلام آباد: سپریم کورٹ پاکستان نے باپ کے قاتل بیٹے کی سزا معافی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ 8 اپریل کو ایسا فیصلہ سنایا جائے گا جو پورے ملک کو ہلا کر رکھ دے گا۔
سپریم کورٹ میں باپ کے قاتل بیٹے محمد صفدر کی سزا معافی درخواست پر سماعت 3 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے اور اس حوالے سے رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے۔
وکیل نے مزید کہا کہ ان کا موکل گزشتہ 14 سال سے قید کاٹ رہا ہے۔ اس لیے اسے رہا کیا جائے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ باپ کو قتل کرنے والے کے لیے 24 سال قید بھی کم ہے۔ اور ایسے سنگین نوعیت کے مقدمات کے لیے کوئی مؤثر قانونی حل نکالنا ضروری ہے۔ عدالت 8 اپریل کو ایسا فیصلہ دے گی جو پاکستان ہلا کر رکھ دے گا۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ قانون میں قصاص یا دیت کے تحت معافی کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم والد کو قتل کرنے والے کو مکمل طور پر بری نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے سولر نیٹ میٹرنگ ضوابط میں ترمیم کر دی، پرانے صارفین کو ریلیف برقرار
عدالت نے کیس کی مزید سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ سنانے کے لیے 8 اپریل کی تاریخ مقرر کر دی اور واضح کیا کہ اس مقدمے میں ایک اہم اور تاریخی فیصلہ دیا جائے گا، جو مستقبل میں ایسے جرائم کے لیے نظیر بنے گا۔
