امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، جسے پینٹاگون میں اعلیٰ سطح پر جاری تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق رینڈی جارج کو فوری طور پر عہدے سے سبکدوش کرتے ہوئے ریٹائر کر دیا گیا ہے، حالانکہ ان کی مدت ملازمت میں ابھی ایک سال سے زائد وقت باقی تھا۔ پینٹاگون نے اپنے بیان میں ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر دفاع نے مزید دو اعلیٰ فوجی افسران، جنرل ڈیوڈ ہوڈنے اور میجر جنرل ولیم گرین کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا ہے، تاہم ان فیصلوں کی باضابطہ وجہ سامنے نہیں لائی گئی۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور ایران کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں اس نوعیت کی برطرفی غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل کرسٹوفر لانیو کو عبوری طور پر چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سینئر فوجی قیادت کو بھی اس فیصلے کا علم اسی وقت ہوا جب اسے عوام کے سامنے لایا گیا۔
رینڈی جارج 2023 میں اس عہدے پر فائز ہوئے تھے اور اس سے قبل نائب چیف آف اسٹاف اور سابق وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے عسکری مشیر بھی رہ چکے تھے۔ انہوں نے عراق اور افغانستان میں بھی خدمات انجام دیں۔
پینٹاگون میں حالیہ عرصے کے دوران اعلیٰ سطح پر کئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جن میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین اور دیگر اہم عہدوں پر تقرریاں اور برطرفیاں شامل ہیں، جس سے ادارے میں عدم استحکام کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
