پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت نے بغیر کسی شفاف فارمولے کے قیمتوں میں اضافہ کیا۔
درخواست گزار کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 450 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے جو دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ امریکا میں پیٹرول تقریباً 250 روپے فی لیٹر ہے جبکہ بھارت میں یہ 290 سے 310 روپے کے درمیان ہے۔
اسی طرح ترکیہ میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 350 سے 360 روپے، بنگلا دیش میں 280 سے 285 روپے اور سری لنکا میں 350 سے 365 روپے فی لیٹر ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں پیٹرول تقریباً 190 روپے جبکہ سعودی عرب میں 170 سے 175 روپے فی لیٹر دستیاب ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کم آمدنی کے باوجود پاکستانی عوام پر سب سے زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، مشرق وسطیٰ بحران یا آئی ایم ایف ڈکٹیشن
درخواست گزار نے کہا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا، خوراک اور ٹرانسپورٹ متاثر ہو گی، عدالت فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ معطل کرے،15 دن کے اسٹاک پر نئی قیمت کا اطلاق ناجائز منافع خوری ہے۔
