پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر دیگر ممالک کی طرح پاکستان پر بھی پڑا ہے۔
خطے کی صورتحال کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا لیکن آئی ایم ایف کے دباؤ نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا، جس سے قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت کے تحت یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ تیل کی قیمتوں کا بوجھ صارفین تک منتقل کیا جائےگا۔
آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنا پڑا، واضح رہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں نرمی کی درخواست پر ابتدائی طور پر لچک دکھانے سے گریز کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو آئی ایم ایف کے مؤقف پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد انہوں نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ ادارے سے دوبارہ مذاکرات کرکے عوامی بوجھ کم کرنے کے لیے مؤثر دلائل پیش کیے جائیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ، تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ عوام پر ڈالنا ممکن نہیں کیونکہ اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی قریباً 129 ارب روپے کی سبسڈی دے کر ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر چکی ہے جبکہ پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی بھی آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے۔
