ملک میں پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔
ان تبدیلیوں کے بعد یٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی لہر کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
ٹیکس اور لیوی
حکومت نے ریونیو کے اہداف پورے کرنے اور سبسڈی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) میں بھی بڑا اضافہ کر دیا ہے۔
حکومت نے پیٹرول پر لیوی کو 106 روپے سے بڑھا کر 161 روپے کر دیا ہے، جو کہ ایک لیٹر پر لیوی کی اب تک کی سب سے زیادہ شرح ہے۔
اسی طرح مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر، جبکہ لائٹ ڈیزل پر 15 روپے 84 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ فرنس آئل پر لیوی 77 روپے فی میٹرک ٹن عائد کی گئی ہے۔
حکومت نے رواں مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 468 ارب روپے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے مختلف پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ڈیزل پر لیوی کو ختم کر دیا گیا ہے تاہم اس پر 2.5 روپے کاربن لیوی اور تمام درآمدی ٹیکسز برقرار رکھے گئے ہیں۔
ریلیف کا اعلان
وزیرِ خزانہ نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر موٹر سائیکل سواروں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ٹارگیٹڈ سبسڈی کا اعلان بھی کیا ہے۔ موٹر سائیکل مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جائے گی، جبکہ مسافر بسوں کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے تک کی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جانے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری کے باعث یہ کڑوا گھونٹ بھرنا ناگزیر تھا۔ یہ نئی قیمتیں آج سے ملک بھر میں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
