خلیجی ممالک نے توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے نئی پائپ لائن بنانے کے امکان پر غور شروع کر دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ پائپ لائن اس چوک پوائنٹ کو عبور کرے گی جو ایرانی کنٹرول میں ہے اور جہاں موجودہ کشیدگی عالمی تیل کی فراہمی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
حکام اور صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ نئی پائپ لائن کے منصوبے پر عملدرآمد مہنگا اور سیاسی طور پر پیچیدہ ہوگا، تاہم توانائی کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کا یہ ایک ممکنہ اور اہم راستہ ہو سکتا ہے۔
چین اور جرمنی کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدو رفت بحالی پر اتفاق
اس سے خطے میں توانائی کی سپلائی چین میں استحکام اورعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں غیرمتوقع اتارچڑھاؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زیرغور ایک آپشن امریکا کی قیادت میں انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور ہے، جو بھارت کو خلیج کے راستے یورپ سے جوڑے گا۔
اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف توانائی کی ترسیل میں تیز رفتاری آئے گی بلکہ علاقائی تعاون اور تجارتی روابط بھی مضبوط ہوں گے۔
اس فیصلے پر عالمی توجہ مرکوز ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی حفاظت اورتیل کی ترسیل خطے اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
