واشنگٹن: امریکی ماہر عالمی امور جان میئر شائمر نے ایک متنازع بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر نیورمبرگ طرز کے ٹرائلز منعقد کیے جائیں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے الزامات پر سخت سزاؤں، حتیٰ کہ سزائے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی ماہر عالمی امور جان میئر شائمر نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ اگر عالمی عدالت میں اسی نوعیت کی کارروائی ہو جیسی ماضی میں نازی جرمنی کے رہنماؤں کے خلاف نیورمبرگ ٹرائلز میں کی گئی تھی۔ تو موجودہ امریکی اور اسرائیلی قیادت کے خلاف بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بلاجواز فوجی کارروائیاں کیں۔ جن میں جون 2025 اور حالیہ حملے شامل ہیں۔ اور ان کے لیے ایران کی جانب سے کوئی واضح فوجی جواز موجود نہیں تھا۔
ماہر عالمی امور کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران ایرانی قیادت، فوجی کمانڈرز، توانائی تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کے نتیجے میں متعدد عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔
Professor John Mearsheimer : “if there were Nuremberg trials right where the Israelis and the Americans were brought before the court, President Trump along with President Netanyahu and many of their advisors would be hanged” pic.twitter.com/EBwgCtDZtj
— Christopher Leonard (@ChrisLeonardATL) March 31, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جاری کارروائیوں کو بھی سنگین نوعیت کے الزامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جبکہ ایران کی جانب سے ان حملوں کے ردعمل میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
