اسلام آباد: بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک میں ایندھن کی قلت اور عوامی مشکلات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان اس صورتحال میں نسبتاً مستحکم دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سری لنکا، میانمار اور فلپائن جیسے ممالک میں تیل کی قلت کے باعث سخت حالات نافذ کر دیئے گئے ہیں۔ جہاں کیو آر کوڈ کے ذریعے فیول فراہمی، ہفتہ وار حد مقرر کرنے اور حتیٰ کہ گاڑیوں کے نمبر پلیٹس کے حساب سے فیول دینے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فلپائن میں ڈیزل کی قیمتوں میں 82 فیصد اضافے کے بعد قومی توانائی ایمرجنسی بھی نافذ کی جا چکی ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں حکومت کی مربوط حکمت عملی کے باعث ایندھن کی سپلائی چین مستحکم ہے۔ اور اپریل 2026 تک ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ حکام کے مطابق اعلیٰ سطحی کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر ذخائر اور درآمدی شیڈول کی نگرانی کر رہی ہے۔
حکومت نے عالمی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے 27 ارب روپے کا پرائس اسٹیبلائزیشن میکانزم اور تقریباً 69 ارب روپے کی سبسڈیز فراہم کی ہیں۔ جس کے باعث مقامی سطح پر پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ ہونے سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جہاں بعض ممالک میں ڈیزل کی قیمتوں میں 80 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ وہیں پاکستان میں یہ اضافہ تقریباً 22 سے 25 فیصد تک محدود رہا۔ جس سے ملک خطے کی نسبتاً مستحکم مارکیٹس میں شامل ہو گیا ہے۔

دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں نہ تو بڑے پیمانے پر تیل کی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ اور نہ ہی طویل قطاریں یا نقل و حرکت پر سخت پابندیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ جس سے معاشی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر، مالی معاونت اور مسلسل نگرانی پر مبنی حکمت عملی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس کے باعث ملک عالمی دباؤ کے باوجود نسبتاً مستحکم رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران جنگ سے پیش آنیوالی مشکل صورتحال پاکستان بڑی کامیابی سے حل کر رہا ہے، وزیر اعظم
عالمی سطح پر جاری غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کا یہ متوازن ردعمل ایک کامیاب مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جہاں سپلائی برقرار رکھتے ہوئے عوام کو شدید قیمتوں کے جھٹکے سے بچایا گیا ہے۔
