پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای-100 انڈیکس 5,300 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔
یہ مندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے بیان کے بعد سامنے آئی، جس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے۔
صبح 9 بج کر 35 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 150,167 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا، جو 5,344 پوائنٹس یا 3.44 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ اہم شعبوں میں دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور پاور جنریشن شامل ہیں۔
انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے بڑے شیئرز، جن میں ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ایم سی بی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل شامل ہیں، سب منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے، جس سے مجموعی مارکیٹ پر دباؤ بڑھ گیا۔
یہ صورتحال ایک روز قبل کی تیزی کے برعکس ہے، جب بدھ کو پی ایس ایکس میں زبردست ریکوری دیکھی گئی تھی اور کے ایس ای-100 انڈیکس 150,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا تھا۔ اس روز انڈیکس 155,511 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جو 6,768 پوائنٹس یا 4.55 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، اور اس بہتری کی وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امید تھی۔
تاہم تازہ صورتحال میں عالمی منڈیاں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگی اہداف قریباً مکمل ہو چکے ہیں، لیکن انہوں نے تنازع کے خاتمے کا واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔ اس کے برعکس انہوں نے آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران پر مزید سخت حملوں کا عندیہ دیا۔
اس بیان کے بعد عالمی سطح پر اسٹاکس میں کمی، ڈالر کی مضبوطی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ ایران اس گزرگاہ کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے، جس کے باعث ایشیائی معیشتوں پر سپلائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب تک آبنائے ہرمز کی صورتحال واضح نہیں ہوتی، مارکیٹس میں غیر یقینی برقرار رہے گی اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرتے رہیں گے۔
