عالمی مالیاتی منڈیاں جمعرات کو دباؤ کا شکار رہیں جبکہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق سخت بیانات نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے سے متعلق امیدوں کو دھندلا دیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک اہم خطاب میں کہا کہ امریکا آئندہ چند ہفتوں میں ایران کو “انتہائی سخت” جواب دے گا، اور دعویٰ کیا کہ فوجی اہداف تقریباً حاصل کر لیے گئے ہیں اور تنازع اپنے اختتام کے قریب ہے۔ تاہم ان کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کب تک کھلے گی، جس سے توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر ایشیائی ممالک میں۔
بیان کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں منفی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5 فیصد اضافے کے ساتھ 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس امریکی اور یورپی اسٹاک فیوچرز میں ایک سے ڈیڑھ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایشیائی منڈیاں بھی شدید دباؤ میں رہیں، جہاں جاپان اور جنوبی کوریا کے اہم انڈیکس نمایاں طور پر نیچے آئے۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو سب سے زیادہ تشویش آبنائے ہرمز کی بندش سے ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے خطاب سے اس حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں ملی، جس کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
ادھر امریکی ڈالر نے بطور محفوظ سرمایہ کاری اپنی پوزیشن مستحکم کی اور دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہوا، جبکہ یورو کی قدر میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معیشت کو مہنگائی اور سست نمو کے امتزاج، یعنی اسٹیگفلیشن، کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
گزشتہ دنوں جنگ کے ممکنہ خاتمے کی امید پر عالمی منڈیوں میں بہتری آئی تھی، تاہم حالیہ بیانات کے بعد سرمایہ کار ایک بار پھر محتاط ہو گئے ہیں اور خطرے سے بچنے کے لیے محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔
