واشنگٹن، ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں تلخی پیدا کر دی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ایک فون کال کے دوران شدید اختلافات سامنے آئے۔
کال کے دوران جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کے ایران پر جنگ اور حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے نقطہ نظر کو براہ راست چیلنج کیا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ نیتن یاہو ایران میں رجیم چینج کے بارے میں ضرورت سے زیادہ پر امید ہیں اور اس عمل کو آسان ظاہر کر رہے ہیں، جو حقیقت سے بعید ہے۔
ڈالر پر ٹرمپ کے دستخط، امریکی کرنسی میں بڑی تبدیلی
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ اس طرح کی توقعات خطے میں غیر ضروری تناؤ پیدا کر سکتی ہیں اور امریکا کے سفارتی اور اسٹریٹجک مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کو نسبتاً آسان عمل کے طور پر پیش کیا تاہم جے ڈی وینس نے ان دعوؤں کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھنے کا عندیہ دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فون کال نے دونوں ممالک کے درمیان ایران پالیسی پرواضح اختلافات کو اجاگر کیا ہے اوریہ ظاہر کیا کہ خطے میں کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی میں امریکا اور اسرائیل کی حکمت عملی میں فرق موجود ہے۔
