وزیراعظم شہباز شریف آج شام صدر مملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کریں گے، جس میں ملک بھر میں ممکنہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ، وزیر پیٹرولیم اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس میں خطے کی بڑھتی کشیدگی، امریکا۔ایران تنازع اور پاکستان کی ممکنہ ثالثی کی پیشکش پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ملاقات میں صدر مملکت کو ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق بریفنگ دی جائے گی، جبکہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں مختلف آپشنز پر غور متوقع ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں منجمد رکھنے کا فیصلہ ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، کیونکہ عالمی منڈی کے مقابلے میں مقامی قیمتیں تیزی سے پیچھے رہ گئی ہیں اور مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کم آمدنی والے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو ہدفی سبسڈی دینے کی تجویز بھی زیر غور لا رہی ہے، تاکہ عام صارفین پر بوجھ کم رکھا جا سکے۔
حکومت نے رمضان کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا اور درآمدی اخراجات پورے کرنے کے لیے سبسڈی دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت حکومت ڈیزل پر تقریباً 175 روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر 75 روپے فی لیٹر تک کا بوجھ برداشت کر رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں جیٹ فیول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت 84 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد 472 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ مٹی کا تیل تقریباً 71 روپے اضافے سے 429 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
مارچ کے آغاز سے اب تک جیٹ فیول کی قیمت میں تقریباً 150 فیصد اور مٹی کے تیل میں 127 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور امریکا۔اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں کو مصنوعی طور پر روکنا زیادہ دیر تک ممکن نہیں، خاص طور پر جب پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے جائزے زیر التوا ہیں اور مالیاتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں میں تاخیر سے ایڈجسٹمنٹ مستقبل میں مہنگائی کے مزید دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قائم خصوصی کابینہ کمیٹی نے مقامی اور عالمی قیمتوں کے فرق کا جائزہ لیا اور عمومی کنٹرول کے بجائے ہدفی سبسڈی کی طرف جانے پر غور کیا۔
ایوی ایشن سیکٹر بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہا ہے، جہاں جیٹ فیول مہنگا ہونے کے باعث فضائی کرایوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اندرون ملک پروازوں کے کرایوں میں 10 سے 15 ہزار روپے جبکہ بین الاقوامی پروازوں میں 30 سے 40 ہزار روپے تک اضافہ ہوا ہے۔
علاقائی فضائی حدود میں کشیدگی کے باعث پروازوں کے راستے بھی طویل ہو گئے ہیں، جس سے اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔ قومی ایئرلائن کے مطابق کشیدگی کے بعد اب تک پاکستانی ایئرلائنز کی تقریباً 325 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جن میں سے 200 کے قریب پی آئی اے کی تھیں۔
اسی طرح ایئر کارگو کے شعبے میں بھی اثرات سامنے آ رہے ہیں، جہاں ایکسپورٹرز کے مطابق گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنیوں نے فی کلو 50 روپے اضافی چارجز عائد کر دیے ہیں، جس سے خراب ہونے والی اشیاء کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
