ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کی سفارتکاری پر بھروسہ نہیں رہا۔
بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جس طرح یہ جنگ شروع کی گئی اب کون مذاکرات کے دعووں کو قابلِ اعتبار سمجھ سکتا ہے۔
امریکا نے ایران کو جنگ ختم کرنے کیلئے 15 نکاتی منصوبہ بھیج دیا، نیو یارک ٹائمز
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکی سفارتکاری کا ایک تباہ کن تجربہ کیا ہے، ہم نے کل واضح کر دیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات یا بات چیت نہیں ہو رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کے نیک نیت ہونے پر یقین رکھتا ہے،ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اپنے پاکستانی ہم منصب اور دیگر ممالک کے سفارتکاروں سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں مختلف اقدامات جنگی صورتحال کے باعث نافذ کیے ہیں، جو ممالک جارحیت میں شامل نہیں وہ رابطہ کرکے اس گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرتے رہینگے۔
امریکا اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام نہ دے، ایرانی فوج کا سخت جواب
قبل ازیں ایرانی خاتم الانبیا سنٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا تھا کہ امریکا کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ مذاکرات کرنے لگے ہیں۔
