پنجاب بھر میں تعلیمی اداروں میں مسلسل تعطیلات کے باعث طلبہ کی پڑھائی شدید متاثر ہونے لگی ہے، جس پر پرائیویٹ سکولوں نے بورڈ امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سرونگ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر رضأ الرحمان کے مطابق تعطیلات کے باعث نہم اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کا کورس مکمل کروانا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ تعلیمی سال پہلے ہی محدود ہو کر تقریباً 130 دن رہ گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہفتے میں تین سے چار دن سکول کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ طلبہ اپنی تیاری مکمل کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کئی برسوں سے اکیڈمک کلینڈر مکمل نہیں ہو سکا، جس کے باعث تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں صرف 15 سے 20 فیصد طلبہ کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، اس لیے آن لائن تعلیم مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ دو روز قبل پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے بھی 31 مارچ تک تعطیلات بڑھانے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک کے تقریباً 80 فیصد طلبہ سکول آنے کے لیے ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کرتے، اس لیے مکمل بندش کی ضرورت نہیں۔
ایسوسی ایشن کے رہنما ابرار احمد خان نے تجویز دی تھی کہ صرف ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے طلبہ کو آن لائن کلاسز پر منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں رواں تعلیمی سیشن کے دوران طلبہ کو 124 سے بھی کم تدریسی دن میسر آئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میٹرک کے امتحانات 28 مارچ سے شروع ہو رہے ہیں، تاہم تعلیمی نقصان کے پیش نظر امتحانات منسوخ کر کے نئی تاریخوں کا اعلان کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کو مناسب تیاری کا موقع مل سکے۔
