اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بڑھتے ہوئے توانائی بحران اور اخراجات میں کمی کے لیے کفایت شعاری مہم کے تحت اہم انتظامی فیصلے کر لیے۔ جن کے مطابق سرکاری دفاتر اب ہفتے میں صرف 4 دن کھلے رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق دفاتر میں کام سے متعلق اقدامات مشرق وسطیٰ میں ایران سے متعلق صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیے گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ملک کو توانائی دباؤ کا سامنا ہے۔
نئے شیڈول کے تحت سرکاری دفاتر پیر سے جمعرات تک کھلے رہیں گے۔ جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہو گی۔ تاہم بینکوں، اسپتالوں، صنعت اور زراعت جیسے ضروری شعبوں کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
حکومت نے دفاتر میں حاضری کا نیا نظام بھی متعارف کرا دیا۔ جس کے تحت ایک وقت میں صرف 50 فیصد عملہ دفتر میں موجود ہو گا۔ جبکہ باقی 50 فیصد ورک فرام ہوم کرے گا۔
پہلا گروپ پیر اور منگل کو دفتر آئے گا اور باقی دن گھر سے کام کرے گا۔ جبکہ دوسرا گروپ بدھ اور جمعرات کو دفتر میں حاضر ہو گا اور باقی دن ریموٹ کام کرے گا۔
ذرائع کے مطابق ورک فرام ہوم ماڈل کے نفاذ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اور اہم وزارتوں اور محکموں میں اس نئے نظام کا اطلاق فوری طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے نے ملک بھر میں بارش، آندھی اور ژالہ باری کا الرٹ جاری کر دیا
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بجلی، ایندھن اور دیگر آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ اور توانائی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
