سکھر: سندھ حکومت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ممکنہ حفاظتی اقدامات پر غور شروع کر دیا۔ جن میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ بھی زیرغور ہے۔
سندھ کے وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ سید ناصر حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث حکومت سندھ مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے تناظر میں روزانہ کی بنیاد پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ جن میں سیکیورٹی اور معاشی صورتحال سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں پہلے ہی 60 فیصد تک کمی کر دی ہے۔ تاکہ ایندھن کی بچت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ موجودہ حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ اور اگر کشیدگی طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات معیشت، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی سمیت ہر شعبے پر پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت وسائل کے مؤثر استعمال اور ایندھن کے ضیاع کو روکنے کے لیے مزید اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں بروقت اور مؤثر فیصلے انتہائی ضروری ہیں۔ تاکہ ممکنہ مشکلات سے بچا جا سکے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب حکومت پاکستان بھی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ جہاں اسمارٹ لاک ڈاؤن اور تعلیمی اداروں کو 15 اپریل تک بند رکھنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے حتمی فیصلہ سیکیورٹی اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
حکام کے مطابق آئندہ چند روز صورتحال کے حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر ملک گیر سطح پر مزید پابندیوں یا ریلیف اقدامات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
