روزمرہ استعمال کی بعض غذائیں ایسی ہیں جنہیں کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 5°C سے 57°C کے درمیان درجہ حرارت کو “خطرناک زون” قرار دیا جاتا ہے، جہاں جراثیم کی افزائش انتہائی تیزی سے ہوتی ہے، اسی لیے بہت سی غذاؤں کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری طور پر فریج میں منتقل کرنا ضروری ہے۔
کس قسم کے مشروبات قبل از وقت موت کا سبب بنتے ہیں؟
ان میں میپل سیرپ نمایاں ہے، جسے کھولنے کے بعد کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنے سے اس میں پھپھوندی پیدا ہو سکتی ہے، لہٰذا اسے ٹھنڈے ماحول میں محفوظ رکھنا چاہیے۔ اسی طرح کٹے ہوئے خربوزے اپنی زیادہ نمی اور قدرتی مٹھاس کی وجہ سے جراثیم کی افزائش کے لیے موزوں ہوتے ہیں، اس لیے انہیں فوراً فریج میں رکھنا بہتر ہے۔
مزید برآں، پراسیسڈ یا ڈَیلی میٹس، جیسے سلائس گوشت، بھی کھولنے کے بعد جلد خراب ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کی مناسب حفاظت کے لیے فریج میں رکھنا ضروری ہے۔ اُبلے ہوئے انڈے بھی زیادہ دیر تک کمرے کے درجہ حرارت پر محفوظ نہیں رہتے، کیونکہ ان کی حفاظتی تہہ متاثر ہو جاتی ہے اور بیکٹیریا کے داخل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح جام اور جیلی جیسی اشیاء اگرچہ اپنی ساخت کے باعث کسی حد تک محفوظ رہتی ہیں، تاہم استعمال کے دوران آلودگی کے امکانات موجود ہوتے ہیں، اس لیے انہیں بھی ٹھنڈے ماحول میں رکھنا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
کیا صرف واک جسمانی صحت اور فٹنس بہتر بنا سکتی ہے؟
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خوراک کو درست درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا نہ صرف اس کی تازگی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ فوڈ پوائزننگ اور دیگر صحت کے مسائل سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
