امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم مختلف ذرائع کی جانب سے ہلاکتوں کے متضاد اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔
ایران میں قائم امریکی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس (HRANA) کے مطابق 22 مارچ تک 3 ہزار 268 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 1 ہزار 443 شہری شامل ہیں اور کم از کم 217 بچے بھی جاں بحق ہوئے۔
تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1 ہزار 270 بتائی گئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے 6 مارچ کو کم از کم 1 ہزار 332 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔ ان اعداد و شمار میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
لبنان میں 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 1 ہزار 39 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 100 سے زائد بچے شامل ہیں، جبکہ عراق میں کم از کم 81 افراد مارے گئے، جن میں زیادہ تر حشد الشعبی کے جنگجو شامل ہیں۔
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج کے دو اہلکار بھی جنوبی لبنان میں مارے گئے۔ مغربی کنارے میں ایرانی حملے کے نتیجے میں چار فلسطینی خواتین بھی جاں بحق ہوئیں۔
امریکی فوج کے مطابق جنگ کے دوران 13 اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں چھ ایک طیارہ حادثے میں جبکہ سات کارروائیوں کے دوران مارے گئے۔
خلیجی ممالک میں بھی جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے، قطر میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں سات افراد جان سے گئے، جبکہ کویت میں چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
اسی طرح شام میں چار، عمان میں تین، سعودی عرب اور بحرین میں دو، دو افراد کی موت ہوئی۔ فرانس کا ایک فوجی بھی عراق میں ڈرون حملے میں مارا گیا جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے۔
یہ اعداد و شمار خبر رساں ادارے رائٹرز نے مختلف ذرائع کے حوالے سے مرتب کیے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
